اتوار 8 مارچ 2026 - 17:05
ملک اور اسلامی نظام کا دفاع واجب اور افضل عبادات میں سے ہے / مسلح افواج کی حمایت پر تاکید

حوزہ / آیت اللہ رجبی نے کہا: ملک اور اسلامی نظام کا دفاع تمام مسلمانوں پر  خواہ مرد ہوں یا عورتیں، بوڑھے ہوں یا جوان، شرعی طور پر واجب ہے اور یہ بہترین عبادات میں شمار ہوتا ہے۔ اسی طرح مسلح افواج کی حمایت کرنا، جو اس جائز دفاع کی صفِ اول میں ہیں، ایران کی پوری قوم بلکہ دنیا بھر کے تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجلس خبرگانِ رہبری کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن آیت اللہ محمود رجبی نے اسلامی مجاہدین کی جانب سے صہیونی حکومت اور خطے میں امریکہ کے اڈوں کے خلاف جاری کارروائیوں کی حمایت میں ایک پیغام جاری کیا ہے۔ اس پیغام کا متن درج ذیل ہے:

بسم الله الرحمن الرحیم

لَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَ بِیَعٌ وَ صَلَوَاتٌ وَ مَسَاجِدُ یُذْکَرُ فِیهَا اسْمُ اللَّهِ کَثِیرًا

“اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے نہ روکتا تو خانقاہیں، گرجے، عبادت گاہیں اور مساجد، جن میں اللہ کا کثرت سے ذکر کیا جاتا ہے، سب ڈھا دی جاتیں۔” (سورۂ حج، آیت 40)

اے معزز اور غیرت مند ایرانی قوم اور دنیا کے آزاد انسانو!

جمہوریہ اسلامی ایران کا مقدس نظام اپنے قیام کے آغاز سے آج تک خطے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ (سوائے غاصب، مجرم اور بچوں کے قاتل صہیونی حکومت کے) ہمیشہ حسنِ ہمجواری کا رویہ رکھتا آیا ہے اور کسی پر جارحیت نہیں کی۔ تاہم ہر حملہ آور کے خلاف سختی سے مقابلہ کیا ہے اور آئندہ بھی کرے گا۔

جیسا کہ بعثی عراق کی جارحیت کے مقابلے میں ایرانی قوم نے بہادری سے دفاع کیا اور بھرپور جواب دے کر اس مجرم حکومت کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا۔ اسی طرح امریکہ اور صہیونی حکومت کے ساتھ بارہ روزہ جنگ میں مسلسل حملوں کے ذریعے انہیں ذلت کے ساتھ جنگ بندی کی درخواست کرنے پر مجبور کر دیا۔

اسلامی نظام، اسلامی ملک اور ایران کی شریف قوم کا دفاع نہ صرف عقل اور انسانی فطرت کا تقاضا اور بین الاقوامی قانون کے مطابق ایک جائز حق ہے، بلکہ قرآن و حدیث کی بے شمار تعلیمات اور شیعہ و سنی تمام فقہاء کے فتاویٰ کے مطابق بھی تمام مسلمانوں پر (مرد و زن، بوڑھے اور جوان) شرعی طور پر واجب ہے اور یہ بہترین عبادات میں شمار ہوتا ہے۔

اسی طرح مسلح افواج کی حمایت کرنا، جو اس جائز دفاع کی صفِ اول میں کھڑی ہیں، ایران کی پوری قوم بلکہ دنیا بھر کے تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔

اس مقدس دفاع میں دشمن کے تمام اڈے اور افواج چاہے وہ جہاں بھی ہوں، کسی بھی نام یا حالات میں ہوں، مسلح افواج کے لیے جائز اور قانونی ہدف ہیں۔

میں ان بہادر اور دلیر سپاہیوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے دشمن کے اڈوں، اس کے کارندوں اور ان کے چھپنے کے مقامات پر مسلسل حملے کیے ہیں۔ میں اللہ تعالیٰ سے ان کی مزید طاقت اور حتمی فتح کی دعا کرتا ہوں۔

قَاتِلُوهُمْ یُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ بِأَیْدِیکُمْ وَ یُخْزِهِمْ وَ یَنصُرْکُمْ عَلَیْهِمْ وَ یَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُؤْمِنِینَ

“ان سے جنگ کرو، اللہ انہیں تمہارے ہاتھوں عذاب دے گا، انہیں رسوا کرے گا، تمہیں ان پر فتح عطا کرے گا اور مومنوں کے دلوں کو ٹھنڈا کرے گا۔” (سورۂ توبہ، آیت 14)

محمود رجبی

قم المقدسہ، 17 اسفند 1404 شمسی / 8 مارچ 2026ء

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha